17 اپریل 2010 - 19:30

ہالینڈ میں ایک عدالت نے شاتم اسلام رکن پارلیمنٹ گیرٹ ولڈر کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق گیرٹ ولڈر نے ایمسٹرڈیم کی عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ رکن پارلیمنٹ ہے اور اسے آزادی اظہار کے قوانین کے تحت تحفظ بھی حاصل ہے، لہٰذا اس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں بھیجا جائے تاہم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کرسکتی ہے۔

عدالت نے ولڈر کی جانب سے شاتم اسلام فلم کے ڈائریکٹر تھیو وان گوگ کے قاتل محمد بیوری کو بطور گواہ بلانے کی درخواست بھی مسترد کردی۔ گیرٹ ولڈر کو اسلام کی توہین پر مبنی فلم بنانے کے بعد سے تنقید کا سامنا ہے۔ اس کے خلاف نفرت پھیلانے اور مسلمانوں سے امتیازی سلوک کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

مسلمانوں کا موقف ہے کہ اظہار کہ آزادی کے قانون کی یہ انتہائی غلط تشریح ہے کیونکہ انسان کو یہ تو آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کے بارے میں اظہار نظر کر سکتا ہے جبکہ جب دوسرے کی طرف انگلی اٹھاۓ اور اس کی توہیں کرے تو بات بیان سے نکل کر دوسرے کی توہین کرنے کے زمرے میں آجاتی ہے اور انھی کے قانوں کے مطابق دوسرے شخص کی توہیں کرنا خلاف قانون شمار کیا جاتا ہے اور اس کی باقعدہ سزا بھی ہے اور جب بات دنیا کے سب سے عظیم شخص کی توہیں ہو تو نہ صرف یہ توہین اس شخصیت کی ہے بلکہ ان کے پیرٶوں کی بھی توہیں کہ جن کی تعداد اربوں اور کھربوں میں شمار ہوتی ہے۔اور اتنے بڑے پیمانے پر توہیں کرنا اور دنیا کی بہت بڑی آبادی کو اذیت دینے کی سزا بھی سخت ہونی چاہیے

 

 /152